19 ستمبر، 2026، 7:38 PM

ایران کے لیے جاسوسی کا الزام؛ غاصب اسرائیلی فوج میں تحقیقاتی عمل میں تیزی

ایران کے لیے جاسوسی کا الزام؛ غاصب اسرائیلی فوج میں تحقیقاتی عمل میں تیزی

عبرانی ذرائعِ ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں ایران سے متعلق سکیورٹی کیسز کی تحقیقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جی ڈی این کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی ذرائع نے اس حکومت کی فوج کے اندر سکیورٹی تحقیقات کی تعداد میں قابلِ ذکر اضافے کی اطلاع دی ہے۔ ان میں سے بعض مقدمات براہِ راست یا بالواسطہ ایران اور تہران سے متعلق انٹیلی جنس و جاسوسی کی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔

جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی فوجی پولیس نے 2022ء میں اس نوعیت کے 10 مقدمات کی تحقیقات کیں۔ یہ تعداد 2023ء میں بڑھ کر 18 ہوگئی، 2024ء میں کم ہو کر 16 رہی، جبکہ 2025ء میں بڑھ کر 31 تک پہنچ گئی۔ 2026ء کے پہلے سات ماہ میں بھی ایسے مقدمات کی تعداد 31 ہوچکی ہے۔

این 12 نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ ان تحقیقات کا ایک بڑا حصہ جاسوسی کے شبہ اور معلومات کی منتقلی سے متعلق ہے۔

غاصب اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں ان تحقیقات میں اضافے نے سکیورٹی اداروں کی توجہ حاصل کی ہے۔ 

موجودہ رجحان کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ سال کے اختتام تک تحقیقات کی تعداد 60 سے تجاوز کرسکتی ہے، تاہم یہ موجودہ رجحان کی بنیاد پر ایک اندازہ ہے اور سال کے حتمی اعداد و شمار ابھی معلوم نہیں ہیں۔

اسی دوران اسرائیلی فوج میں ایک حساس اور خفیہ سکیورٹی کیس کی بھی تحقیقات جاری ہیں، جس کی بیشتر تفصیلات عدالتی حکم کے تحت میڈیا میں شائع نہیں کی گئیں۔ 

این 12 کے مطابق، گزشتہ دنوں اس کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایران سے اس کے براہِ راست تعلق کا امکان بھی سامنے آیا ہے۔ عدالتی اور سکیورٹی پابندیوں کے باعث اس کیس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیلی ذرائعِ ابلاغ نے اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو اپنے ساتھ ملانے یا ان کے ساتھ تعاون حاصل کرنے کی کوششوں سے متعلق متعدد کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ تاہم 2026ء میں درج ہونے والے 31 مقدمات میں سے ہر ایک کا ایران سے براہِ راست تعلق الگ الگ طور پر کھلے ذرائع میں ثابت نہیں ہوا ہے۔

News ID 1941493

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha